تری یادوں سے پھر محفل کو گرما لوں تو آتا ہوں
یہی دوچار انگارے ہیں دہکا لوں تو آتا ہوں
میں اپنے رزق سے، حصّے کا غم کھا لوں تو آتا ہوں
تری دہلیز تک دامن کو پھیلا لوں تو آتا ہوں
یہ حسنِ خلق کا پرچہ بہت کمزور ہے میرا
سبق پھر سے ذرا اِک بار دہرا لوں تو آتا ہوں
کنویں کھاری، سفر دشوار، رستے نا...
بہت خوب جناب. عمدہ کاوش ہے.
اساتذہ ان شاء اللہ رہنمائی فرمائیں گے.
میری طرف سے اصلاح تو نہیں صلاح ہے.
دوسرا مصرع اگر یوں ہو جائے
میرا سویا ہوا جگایا غم
خوش آمدید. :)
تعارف کے زمرہ میں جا کر تعارفی لڑی بھی بنا دیں.
مصروفیت کے سبب جواب میں تاخیر ہوئی.
میرا اپنا اس حوالے سے تجربہ نہیں ہے. جو کچھ دیکھا محفل پر ہی دیکھا.
خود کبھی انسٹال نہیں کیا.
ہاں، اپنی ایپ میں ایمبیڈ ضرور کیا ہے. اور اسی حوالے سے آپ کے فونٹ کا انتظار بھی ہے. :)