منا کی دماغی رو مکمل طور پر اک عام انسان کے خیالات اور معمولات سے ہٹ چکی ہے۔ اس کے ذہن پر ہر وقت ایسے جملے سوار رہتے ہیں جن کے آخری ارکان کو 2 کی بجائے 1 1 بھی لکھ سکتے ہیں۔ اس حساب کتاب میں وہ دنیا سے بیگانہ ہو چکا ہے۔ زیادہ عرصہ یہی حالت رہی تو امید واصل ہے کہ زندگی کے سارے عشق ناکام ہونگے۔ :p
پر کیا کریں کہ انسان اپنے اصل سے اس لیئے بھاگتا ہے کہ اس اپنا اصل معلوم ہے۔ وہ دوسروں کے تراشیدہ لبادے دیکھ کر متاثر ہوتا ہے۔ کیوں کہ وہ انکے اصل کو نہیں جانتا ہوتا۔ اگر وہ انکے اصل بھی دیکھ لے تو شائد خود سے فرار کی راہیں نہ ڈھونڈے۔
یہ تو آپ کے شعر کے جواب میں ہم پر اترا ہے۔ ذاتی شاعری ہے یہ :ڈی
بس اصلاح نہ کیجیئے گا کہ بقول جون بھائی
کچھ لوگ کئی لفظ غلط بول رہے ہیں
اصلاح مگر ہم بھی اصلاً نہ کریں گے