کہیں تھا میں، مجھے ہونا کہیں تھا
میں دریا تھا مگر صحرا نشیں تھا
ملے تھے ہم تو موسم ہنس دیئے تھے
جہاں جو بھی ملا، خنداں جبیں تھا
واہ احمد بھائی۔ مزا آگیا۔ بہت ہی عمدہ شاعری ہے۔ لاجواب۔ :hatoff:
احمد بھائی شاندار۔۔ زبردست۔۔۔ کیا کہنے۔۔۔ واہ واہ۔۔۔ عمدہ۔۔ بہت ساری داد قبول فرمائیے :)
اگرچہ دامنِ دل ہے دریدہ
دُرونِ نخلِ تازہ کون دیکھے
بہت مربوط رہتا ہوں میں سب سے
مری بے ربط دُنیا کون دیکھے
محبت کانچ کا زنداں تھی یوں سنگِ گراں کب تھی
جہاں سر پھوڑ سکتا تھا، وہیں سر پھوڑ آیا ہوں
اُسے جانے کی جلدی تھی، سومیں آنکھوں ہی آنکھوں میں
جہاں تک چھوڑ سکتا تھا، وہاں تک چھوڑ آیا ہوں
کیا خوب شاعری ہے احمد بھائی۔ زبردست
لوگ جیتے ہیں جینا چاہتے ہیں
زندگانی وبال ہوتے ہوئے
آج بھی لوگ عشق کرتے ہیں
سامنے کی مثال ہوتے ہوئے
کیا زبردست شاعری ہے۔ بہت خوب غزل۔۔ بہت ساری داد قبول فرمائیے شاعر صاحب عرف پائتھون گرو :)
دل کے بہلانے کو نیلم یہ خیال اچھا ہے
بڑے ڈان نے جوفرما دیا ہے بس وہی سچا ہے
ہیں!!!:eek::evil:
بڑے ڈان کے الفاظ کو چیلنج نہیں کرنے کا:evil:
خوش ہونے کے بہانے مل گئے تم کو۔۔ وگرنہ تم دونوں کل سے رو رہی تھیں۔:devil: