جب سے باندھا ہے تصور اس رُخِ پُر نور کا
سارے گھر میں نور پھیلا ہے چراغِ طور کا
بخت واژوں سے جلے کیوں دل نہ مجھ محرور کا
مرہمِ کافور سے منہ آ گیا ناسور کا
اس قدر مشتاق ہوں زاہد خدا کے نور کا
بت بھی بنوایا کبھی میں نے تو سنگِ طور کا
تجھ کو لائے گھر میں جنت کو جلایا رشک سے
ہم بغل تجھ سے...