امیر مینائی جب سے باندھا ہے تصور اس رخ پر نور کا۔

محمد عدنان اکبری نقیبی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 26, 2017

  1. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی محفلین

    مراسلے:
    18,433
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    جب سے باندھا ہے تصور اس رُخِ پُر نور کا
    سارے گھر میں نور پھیلا ہے چراغِ طور کا

    بخت واژوں سے جلے کیوں دل نہ مجھ محرور کا
    مرہمِ کافور سے منہ آ گیا ناسور کا

    اس قدر مشتاق ہوں زاہد خدا کے نور کا
    بت بھی بنوایا کبھی میں نے تو سنگِ طور کا

    تجھ کو لائے گھر میں جنت کو جلایا رشک سے
    ہم بغل تجھ سے ہوئے پہلو دبایا حور کا

    گورِ کافر کس لیے ہے تیرہ و تار اس قدر
    پڑ گیا سایہ مگر میری شبِ دیجور کا

    حُسنِ یوسف اور تیرے حُسن میں اتنا ہے فرق
    چوٹ یہ نزدیک کی ہے وار تھا وہ دور کا

    قصر تن بگڑا کسی کا گورکن کی بن پڑی
    گھر کسی کا گر پڑا گھر بن گیا مزدور کا

    چہرۂ جاناں سے شرما کر چھپایا خُلد میں
    خامۂ تقدیر نے کھینچا جو نقشہ حور کا

    حاجتِ مشاطہ کیا رخسار روشن کے لیے
    دیکھ لو گل کاٹتا ہے کون شمعِ طور کا

    زلف و روئے یار سے نیرنگِ قدرت ہے عیاں
    مہر کے پنجے میں ہے دامن شبِ دیجور کا

    خاکساری کر جو ہو منظور آنکھوں میں جگہ
    خاک ہو کر سرمہ بن جاتا ہے پتھر طور کا

    غافلوں کے کان کب کھلتے ہیں سن کر شورِ حشر
    سونے والوں کو جگا سکتا نہیں غل دور کا

    پوچھ لینا سب وطن کا حال اے اہلِ عدم
    بیٹھ لینے دو ذرا آتا ہوں اٹھا دور کا

    عجز کرتے ہیں عدوئے جاں سے بھی خاصانِ حق
    جھک گیا سر آکے پائے دار پر منصور کا

    موت کیا آئی تپِ فرقت سے صحت ہو گئی
    دم نکلنے سے بدن ٹھنڈا ہوا رنجور کا


    موذیوں کو حادثوں سے دہر کے کیا خوف ہے
    بارشِ باراں سے گھر گرتا نہیں زنبور کا

    چشمِ ساغر بے سبب ہر دم لہو روتی نہیں
    مغبچوں سے ساقیا دل پھٹ گیا انگور کا


    جاتے ہیں مے خانۂ عالم سے ہم سوئے عدم
    کہہ دو ازخود رفتگی سے ہے ارادہ دور کا

    کی نظر جس پر کدورت سے رہا خاموش وہ
    ہے اثر گرد نگاہ یار میں سیندور کا

    جلوۂ معشوق ہر جا ہے بصیرت ہو اگر
    کرمک شب تاب میں عالم ہے شمع طور کا

    مر کے یاران عدم کے پاس پہنچوں گا امیر

    چلتے چلتے جان جائے گی سفر ہے دور کا

    امیرمینائی
     
    مدیر کی آخری تدوین: ‏جولائی 26, 2017
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  2. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    9,152
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    بہت خوب!
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. چودھری مصطفی

    چودھری مصطفی محفلین

    مراسلے:
    442
    بہترین
    بہت شکریہ اتنی اعلی غزل کی شراکت کا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. ثقیل ساقی

    ثقیل ساقی محفلین

    مراسلے:
    25
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Mad
    بہت خوب
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  5. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,138
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    بہت خوب
    جاتے ہیں مے خانۂ عالم سے ہم سوئے عدم
    کہہ دو ازخود رفتگی سے ہے ارادہ دور کا
    واہ واہ
    جلوۂ معشوق ہر جا ہے بصیرت ہو اگر
    کرمک شب تاب میں عالم ہے شمع طور کا
    کیا کہنے واہ واہ واہ
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  6. عبد الرحمٰن

    عبد الرحمٰن محفلین

    مراسلے:
    2,623
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    لاجواب انتخاب
     

اس صفحے کی تشہیر