؎اس گھڑی جب کہ مری منزل تھی میرے سامنے
اس نے کسی رکشے کے پیچھے لکھا شعر پڑھ لیا
انھی پتھروں پہ چل کے آ سکو تو آؤ
میرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے
شعر نے اس کے دل و دماغ پہ ایسااثر کیا کہ اچھے بھلے تعلقات ، بے التفاتی کا شکار ہونے لگے۔ مرتا کیا نہ کرتا۔ یہی سوچا کہ اس کے آنے کی راہ...
آپ بس اس سوال کو داخل دفتر کر دیجئیے ۔ اگر گھٹلی زمین میں داب دی گئی ہے تو ضرور زمین کا سینہ چیر کر باہر آئے گا۔ تب اس کے آموں سے سارا خرچہ وصول کر لیا جائے گا۔
ہمتِ مرداں
تُم نے سنا کہ شاہد عین اپنے نکاح کے وقت مولوی صاحب کے سامنے سے اٹھ کر بھاگ لیا، اور تب سے اب تک اس کا کچھ پتہ نہیں ہے۔
دوسرے نے کہا: اوہ عین وقت پر اس کی ہمت جواب دے گئی۔
پہلا بولا: نہیں یوں کہو کہ عین وقت پر اس نے ہمت کر ہی لی۔
یعنی کہ اگر مقتول لنگڑا تھا۔ تو دس پندرہ کلو جوان بھی لنگڑے ہی ہوں؟
یہ تو ظلم ہو جائے گا نا کنون کے ہاتھوں۔
اور خرچہ کنون کے ذمہ؟
وہی وہی
پولیس کا ہے فرض مدد آپ کی
السلام علیکم
بہت اچھی کاوش ہے۔ اللہ پاک ترقی دیں۔ آمین۔
اسی بہانے ہمیں مرغی کے گوشت کا بھاؤ بھی معلوم ہو گیا ۔ کیا واقعی میں 850 روپے فی کلو سے تجاوز کر چکا ہے۔