یہ جلالی و جمالی کا جو Switch ہے ناں۔۔۔ ۔جب وقت ختم ہوتا ہے تو سب سے پہلے یہی بیکار ہوتا ہے۔ جلال و جمال دونوں ہی اخلاقیات کے دائرہ سے نکل جائیں تو طبع پر محض بارگراں رہتے ہیں۔۔۔ اس سے زیادہ ان کی کچھ حقیقت نہیں رہتی۔۔۔ :)
واہ سبحان اللہ۔۔۔ زبردست۔۔۔ اور حقیتاً میں حیف کو لعنت ملامت ہی سمجھتا رہا ہوں۔۔۔ اور یہ اشعار۔۔۔ کیا کہنے۔۔۔۔
محفل میں تری آئے ہیں کیا سوچ کے جانے
دعوائے سخن ہے نہ کوئی بات نئی ہے
احمد یہ حرف جس کی تمنا سے جُڑے ہیں
صد حیف کہ اب اُس کی تمنّا بھی نہیں ہے
ہائے ہائے