جو بھی بیچارہ آیا۔۔۔ اٹھا اٹھا کر خود اٹھ گیا۔۔۔ لیکن یہ قوم بھی کوئی ایسی نسلی بھنگ پی کر سوئی ہے کہ مجال جو کروٹ بھی لے۔۔۔۔۔۔۔ بس ان کو فکر ہے تو یہ کہ کسی طرح دوسروں پر کیچڑ اچھالیں۔۔۔ دوسروں کو گندہ کریں۔۔۔ اس کام میں یہ سارے متفق ہیں۔۔۔
وہ ڈاکٹر کے پاس گیا سن کے کرامات
اور گنجا سر دکھا کے شروع کرنے لگا بات
پر ڈاکٹر نے بات سنی ان سنی کر دی
پھر گویا ہوا کہنے لگا اپنے خیالات
اب ٹانٹ پہ تری نہ کبھی بال اگیں گے
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مسامات
محمداحمد
شادی نہ کروں گا میں کنول سے نہ غزل سے
ناشکرا تھا بیزار تھا اللہ کے فضل سے
اب جائے زبیدہ کا میاں بن کے جئے وہ
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
محمداحمد