مری انگلیوں کو پکڑ کے حرفِ جنوں پہ رکھ
رہِ خواندگاں پہ مری کجی مری گمرہی کو بھی ڈال دے
نہ قلم پکڑنے کا ڈھنگ ہے نہ ورق ہے میری بساط میں
مرا منہ چڑاتی ہے لوحِ گل
ابھی وہ ورق نہیں سامنے تراپاک نام کہاں لکھوں
کہ سپیدی صفحہء صاف کی مری آنکھ میں ہے بھری ہوئی
جہاں کوئی سطر ہے خواب کی نہ خرامِ موجہِ اشک...