میرا بھی یہی خیال تھا، لیکن شاید سجنا کچھ وقت زندہ بچ جائے کہ عموماً ریاستی سطح پر ایک قاتل کو اس وقت تک مہلت دی جاتی ہے جب تک وہ دوسرے قاتلوں کا کام تمام کرتا رہے :)
یہ وجہ بھی شامل ہے کہ میں نے طالبان کے حامی چند جید افراد کو اپنے موقف پر یو ٹرن لیتے دیکھ لیا ہے۔ یہ احباب وہ ہیں جو وقت کو آنے سے پہلے بھانپ لیتے ہیں کہ اب انہیں کیا نکتہ نظر اپنانا چاہئے :)
عین ممکن ہے کہ آپ بھی جلد ہی ایسے افراد دیکھ لیں :)
نوبت اب یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ شنید ہے کہ ریاستی سطح پر طالبان کے لئے محض موت لکھ دی گئی ہے اور اس میں سعودی حکومت کا پرزور اصرار بھی شامل ہے تاکہ گذرے کل کے اثاثے آئیندہ کل کے لئے سعودیوں کی ذمہ داری نہ بن جائیں :)
استادِ محترم، اگر ناگوار نہ گذرے تو ایک الجھن تو رفع فرما دیجئے
فقیر کا ایک طرف تو بادشاہ سے ڈرنا کہ وہ کہیں یہ سوال نہ پوچھ لے، اور پھر اس کا اتنا باکمال ہونا کہ اس کے کھینچے ہوئے حصار سے بادشاہ کی تلوار نہ گذر پانا
اچھا ہے کہ کورٹ کچہری کے چکروں سے بچ گیا اور براہ راست جہنم رسید ہوا :)
اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ دہشت گردوں کی ہلاکت ہی مطلوب و مقصود ہے، چاہے ڈرون سے ہو، ٹارگٹ کلنگ سے یا پھر کی اور ذریعے سے
میرا خیال ہے کہ یہ کتاب تمام ہو چکی۔ یعنی صفحات تقسیم ہو چکے اور چار یا پانچ افراد کا کام باقی ہے۔ البتہ اگر وہ احباب یہ کام نہ کر سکیں تو ان سے لے کر آپ کو دے دیتے ہیں۔ کیسے عائشہ عزیز بہنا؟