خود فردوسی رودابہ کی تعریف میں بالا اور فر وغیرہ الفاظ استعمال کرتا ہے حالانکہ بزم کی لطافت اور نزاک ان الفاظ کی متحمل نہیں ہو سکتی، لیکن یہ فردوسی کی نکتہ سنجی اور بلاغت شعاری کی دلیل ہے اسکو معلوم ہے کہ وہ کابل و زابلستان کے محبوب کا ذکر کر رہا ہے، لکھنؤ کا نہیں وہانکے لوگ آج بھی اپنے پیارے...