آپ ایک صفر کم گن رہے ہیں۔
$4,000,000
چار ملین یعنی چالیس لاکھ امریکی ڈالر
کل 266,269,800 یعنی چھبیس کروڑ باسٹھ لاکھ انہتر ہزار آٹھ سو انڈین روپے بنتے ہیں :)
یہ بات۔۔۔ :rollingonthefloor::rollingonthefloor::rollingonthefloor:
کم از کم قصے کہانیوں میں تو ایسے سوچ کے لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے ورنہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ ایک کو چوز کرنے کی بات پر ہمارا سارا جوش جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا ہے اور ہم کہتے ہیں نہیں نہیں، کوئی بات نہیں، سروس کروا لیں گے گاڑی۔
مرنے کا ترے غم میں ارادہ بھی نہیں ہے
ہے عشق مگر اتنا زیادہ بھی نہیں ہے
ہے یوں کہ عبارت کی زباں اور ہے کوئی
کا غذ مری تقدیر کا سادہ بھی نہیں ہے
کیوں دیکھتے رہتے ہیں ستاروں کی طرف ہم
جب ان سے ملاقات کا وعدہ بھی نہیں ہے
کیوں راہ کے منظر میں الجھ جاتی ہیں آنکھیں
جب دل میں کوئی اور ارادہ بھی نہیں...
پہلی بات تو یہ کہ میں اصلاح نہیں دے رہا تھا کہ میں خود کو اس مقام پر نہیں سمجھتا۔ میں تو محض نشاند ہی کر رہا تھا لیکن ان پر جس قسم کی عجیب توجیہات آپ نے پیش کیں ان سے مجھے یہ لگا کہ آپ ناراض ہوئے اور تبھی میں نے آپ سے دلی معذرت کی۔
اس مصرع کا مطلب ہی سمجھ میں نہیں آ سکا۔
رات کے وقت تو میکدے کھلا ہوا تھا کہ رات کو ہی شیخ اور واعظ وہاں تھے اور جب رات کو کھلا تھا تو سرِ شام بند کرنے کی بات کیسی؟
تسمہ پا کا الف گرنا بہت عجیب لگ رہا ہے پڑھنے میں۔
درست محاورہ زقند کرنا نہیں بلکہ زقند بھرنا ہے ۔
یہاں بھی درست محاورہ کمند...