سوچئیے گا آئینہ دیکھتے ہوئے کہ
نئے کپڑے پہن کر جاؤں کہاں میں بال بناؤں کس کے لیے
وہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا میں باہر جاؤں کس کے لیے
اور جو بات آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر کی جاتی ہے وہ ہمیشہ یاد رہتی ہے۔اب آئینہ دیوار پہ لگا ہو یا دل کا آئینہ۔۔۔ ہو مگر شفاف۔ اندر تک جھانک لینے والا۔