موصوف کے 27 نومبر والے کالم کا آغاز ان فقروں سے ہو رہا ہے
'جھوٹ اور سچ کے درمیان فاصلہ ایک سمندر کا بھی ہوسکتا ہے اور صرف ایک بال کا بھی۔ جس جھوٹ میں آمیزش تھوڑے سے سچ کی ہوجائے وہ مطلوبہ نتائج زیادہ آسانی کے ساتھ حاصل کرلیتا ہے'
اب بندہ اس کالم نگار کو کیا کہے ؟