کوئی دستک دے تو سمجھو رازِ سربستہ کھلا
چھوڑ کر سوتا ہے اب وہ گھر کا دروازہ کھلا
تھی یہ مشکل بیچ میں حائل رہی دیوارِ سنگ
کوہ کن سے بھی نہ پورے طور سے تیشہ کھلا
تم ذرا پورے بدن کی آنکھ سے پڑھنا مجھے
میں ہوں اپنی ہی کتابِ جاں کا اک صفحہ کھلا
ہم بھی چہرے پر سجا کر خوش ہیں پسپائی کی گرد
حسرتِ...