آج پھر دِل میں اضطراب اٹھا
آج پھر درد بے حساب اٹھا
کس قدر بڑھ رہی ہے تاریکی
رُخ سے اپنے ذرا نقاب اٹھا
دو قدم چال ہی قیامت ہے
اور مت فتنۂ شباب اٹھا
میں نے ہی تجھ سے بے وفائی کی
لا اٹھا تو ذرا کتاب اٹھا
نغمۂ زندگی کے تار بَجیں
اے مری جاں ذرا رباب اٹھا
بام پر اُس نے زُلف لہرائی
پھر گھٹا ٹوپ...