تو نے مہجور کر دیا ہم کو
سخت رنجور کر دیا ہم کو
آپ چلتے ہیں غیر کو نہیں رنج
غم نے کافور کر دیا ہم کو
اپنی برقِ نگاہ سے تم نے
شجرِ طور کر دیا ہم کو
دل بنا عاشقی میں خود مختار
اور مجبور کر دیا ہم کو
ایسی تعریف کی، کہ اے زاہد!
عاشقِ حور کر دیا ہم کو
غم نہیں محتسب، جو توڑا خُم
نشہ نے چور کر دیا...