نام زیرِ آسماں باقی رہا
مر مٹوں گا یوں نشاں باقی رہا
اس کے در پر جبہ سا لاکھوں ہوئے
پھر بھی سنگِ آستاں باقی رہا
دیکھیے فردائے محشر کیا بنے
آج کل پر امتحاں باقی رہا
اے گدازِ غم تجھے کھا جائوں گا
ایک بھی گر استخواں باقی رہا
شب کو تیری جستجو میں کوبکو
کون سا مجھ سے مکاں باقی رہا
مٹ گئے دنیا...