استادِ محترم نے محفل پر نہ آنے کا عندیہ دیا تھا.
اور محفل کا کوئی ڈائریکٹ نوٹیفکیشن کا سسٹم نہیں ہے. اس لیے متعلقہ لوگوں کو ایک وٹس ایپ گروپ بنا کر وہاں اصلاحِ سخن کے حوالے سے معاملات طے کیے اور استادِ محترم سے وقت دینے کی درخواست کی.
کھنہ پل پر کھڑا تھا. اوبر بک کروائی ہی تھی کہ ایک موٹر سائیکل والا ہاتھ سے چھین کر بھاگ گیا. ساتھ ہی پیچھے ایک اور بائیک والا آیا. اور پوچھا کیا ہوا. میں نے بتایا کہ موبائل چھین کر بھاگا ہے. انہوں نے بائیک دوڑا دی. تین منٹ میں اوبر آ گئی.
اس سے فون لے کر اپنے نمبر پر کال کی. تو بعد والے بائک پر...
بڑے ادیب ہمیشہ زیادہ نام رکھتے ہیں۔
ایک جو پیدائش پر رکھ دیا گیا اور ایک ادبی نام۔ اور ادبی میں بھی دو نام۔ ایک شاعر کی حیثیت سے تخلص اور ایک نثر نگار کی حیثیت سے۔
مزید تفصیل ادب دوست بھائی ہی بتا سکتے ہیں۔
ایک دفعہ پھر بہت سی داد۔ :)
اب اگر شاعر اس میں ڈائریکٹ خاتون سے مخاطب ہوتا تو بات کسی قدر معیوب ہو جانی تھی۔
تم میرے پاس ہوتی ہو گویا
جب کوئی دوسری نہیں ہوتی
ظہیر بھائی کے خوبصورت قطعہ کی پیروڈی ان سے معذرت کے ساتھ:
بیگم سے مار کھا کے بھی لاشہ نہیں بنے
"اخبار کی خبر کا تراشہ نہیں بنے"
کمزوری مت سمجھنا "ہمارے شکیب" کو
"چپ چاپ جی رہے ہیں، تماشہ نہیں بنے"
منزل ملے بے حوصلۂ جاں نہیں دیکھا
ہوتے ہوئے ایسا تو کبھی ہاں نہیں دیکھا
غیر آئے گئے، پھول چنے، بو بھی اُڑائی
ہم ایسے کہ اپنا ہی گلستاں نہیں دیکھا
دامن بھی سلامت ہے، گریباں بھی سلامت
اے جوشِ جنوں تجھ کو نمایاں نہیں دیکھا
ہیں تیرے تسلط میں فضائیں بھی، زمیں بھی
تجھ میں ہی مگر ذوقِ سلیماں نہیں...