’’علوم و فنون کی روح سے عاری معاشرہ‘‘
ایک زمانے تک علوم و فنون کی ناقدری کرنے والا معاشرہ۔۔۔
جو آج مادّہ پرستی کی اس انتہائی پستی تک پہنچ گیا کہ۔۔۔
علم و ہنر کا مقابلہ گارے مٹی سے کھڑے محلات اور زبان کی چاٹ کو تسکین دیتے کھانوں سے کرنے لگا۔۔۔
گویا انسانیت سے بھرپور معاشرے کی روح نکل گئی ۔۔۔...
اس شعر کی تشریح:
اس شعر سے کسی قسم کی گمراہی مراد نہ لی جائے۔۔۔
اس شعر میں وہ سے مراد عدنان بھائی ہیں۔۔۔
جو کراچی کے محفلین سے ملاقات پر آمادہ ہوگئے!!!
وہ روزانہ وزن چیک کرتی تھیں...
68 کِلو کے قریب ہوتا تھا...
آج چشمہ لگا کر دیکھا تو...
88 کِلو نظر آیا...
چلٌا کر بولیں...
ہائے اللہ...
صرف چشمے کا وزن 20 کِلو!!!
لڑی کے عنوان میں سب سے پہلے لفظ 'کتاب' لکھنا چاہئے تھا...
عنوان دیکھ کر لوگ سمجھتے ہیں کہ...
آج کل محفلین پتا نہیں کس کا جائزہ لینے میں لگے ہوئے ہیں!!!