لہجے کی شدت اور پیکر کی ندرت کے اعتبار سے
قائم چاندپوری نے بھی اس مضمون کو ایک غزل کے دو شعروں میں لاجواب طرح سے لکھا ہے؎
نہ دل بھرا ہے نہ اب نم رہا ہے آنکھوں میں
کبھی جو روئے تھے خوں جم رہا ہے آنکھوں میں
وہ محو ہوں کہ مثال حباب آئینہ
جگر سے کھنچ کے لہو جم رہا ہے آنکھوں میں