اب تک کی جمع کردہ نظم بشکریہ سید شہزاد ناصر اور سید عاطف علی
اُٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے
پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے
جو عمر کو مفت گنوائےگا
وہ آخر کو پچھتائےگا
کچھ بیٹھے ہاتھ نہ آئے گا
جو ڈھونڈے گا وہ پائے گا
تو کب تک دیر لگائے گا
یہ وقت بھی آخر جائے گا
اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے
پھر دیکھ خدا کیا...