رو کر پکارے عترتِ اطہار، الوداع!
عباس الوداع، اے علم دار الوداع
اے زیبِ پہلوئے شہِ ابرار! الوداع!
اے نام دارِ حیدرِ کرار، الوداع!
جعفر کی روح آپ کے لاشے پہ روئے گی
ہے ہے اب اس علم کی زیارت نہ ہوئے گی
زینب نے بڑھ کے کان میں سقے کے کچھ کہا
سنتے ہی بہرِ سجدہ جھکا ابنِ مرتضیٰ
زینب سے پوچھنے لگیں...