یہ بات تو ٹھیک ہے۔ پبلک کا ذوق بنانے اور بگاڑنے میں اُن گروپس کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے جو ذرائع ابلاغ پر حاوی ہوتے ہیں۔ اب امن کی آشا کو ہی لے لیجے۔ زبردستی ایک بات ٹھونسی جا رہی ہے لوگوں کے ذہن میں۔ پھر ساتھ میں ایسے "دلفریب کلچر" کا جھانسہ دیا جا رہا ہے کہ منع کرنے والا بھی آخر کہاں تک منع کرے...
بے چارے گلزار بھیا بھی کیا کریں۔ ہماری پبلک ایسا کوئی پروگرام دیکھتی ہی نہیں کہ جس میں رقص و سرور نہ ہو۔ :) بے چارے گلزار بھائی کے لئے تو یہ ورزش کا بہانہ ہی ہوگا۔
اب ٹارزن کی کہانیاں تو تعلیمِ بالغاں کے کام آنے سے رہیں۔ البتہ کلاس میں تہذیب سے بیٹھنے کا وعدہ کریں ٹارزن صاحب کو بھی بڑوں کی کلاس میں داخلہ دیا جا سکتا ہے۔ :) :)