اُڑے ہیں ہوش مرے میں ہوں غرقِ بادۂ ناب
ٹھہر نہ چھیڑ ابھی قصۂ عذاب و ثواب
اُدھر ہے حسن تہِ صد حجاب ہائے نقاب
اِدھر ہے عشق کہ پھرتا یونہی ہے خانہ خراب
تمام حزن مجسم، ملال و درد و عذاب
بڑا ہی خیر ہوا زندگی ہے مثلِ حباب
تھا اک نصاب ضروری برائے مکتبِ زیست
تو الکتاب اتاری گئی بطورِ نصاب
کرے اسیر...