شریکوں کے بارے میں ہم (بوساطت ایک پنجابی گانے کے) اتنا ہی جانتے ہیں کہ اُنہیں آگ لگتی ہے۔ :)
رہی بھینس اور رسے والی بات تو وہ ہمیں سمجھ نہیں آئی کہ یہاں کیوں رسی کا سانپ اور سانپ کی رسی بنائی جا رہی ہے۔ :D:p
ہو سکتا ہے محترمہ آصفیہ نے مسٹر کمال سے ساتھ جینے مرنے کا وعدہ بمعنیء عقدِ مسنونہ کر لیا ہو۔ اور اس طرح فرہنگ کا نام "فرہنگِ آصفیہ کمال" ہو گیا ہو۔ :)
اور پھر ہوتے ہوتے یہ طویل نام سمٹ کر "فرہنگِ کمال" رہ گیا ہو۔ :)