سنا ہے ہر جگہ گھپلا ہوا ہے۔ احساس پروگرام میں جعلی انگوٹھے، یوٹیلٹی سٹورز میں گھپلا، کورونا کے مریضوں کے نام پر فراڈ، وغیرہ وغیرہ۔ ان کاموں میں ہم یوں بھی طاق ہیں، کیا سویلینز اور کیا فوجی۔
ہر اخبار میں یہی خبر تھی کہ خان صاحب نے 1200 ارب روپوں کی منظوری دی تھی۔ آپ دیکھ لیجیے۔ میں نے ایکسپریس نیوز کا لنک اسی لیے دیا تھا۔ یہی خبر سب اخبارات کی زینت بنی تھی۔
یہ سوال پوچھنا منع ہے، یہ مبینہ طور پر بارہ سو ارب روپے کا معاملہ ہے اور حکومت نے یہ رپورٹ دبا لی ہے اور فوجی چوں چراں کریں گے یا خان صاحب کو تنگ کریں گے تو یہ شاید یہ رپورٹ سامنے آ جائے گی، اس لیے اس پر مزید سوال جواب منع سمجھے جائیں ورنہ شمالی علاقہ جات جانا پڑے گا۔
اچھی بات ہے مگر ابھی کوئی ایسا معرکہ نہیں مارا گیا اور یہ اعداد و شمار حتمی نہیں اس لیے انصافینز کو حقیقت پسند ہونا چاہیے۔ ابھی یہ سب کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔
خان صاحب کا معاملہ الٹ ہے۔ وہ خود نہیں کھاتے مگر جو کھائے اس کو ڈرانے دھمکانے کے لیے اس کے خلاف کمیشن بٹھا کر اسے ادھ موا کر دیتے ہیں مگر پرانی دوستی کا خیال کر کے انہیں آزاد ہی رکھتے ہیں اور کبھی کبھار کوئی پارٹی عہدہ دے دیتے ہیں۔
یہ کیسے ثابت ہو گیا کہ دھرنے کے پیچھے فوج نہیں تھی۔ دراصل، بات یہ ہے کہ نہ تو یہ ثابت ہوا کہ دھرنے کے پیچھے فوج تھی اور نہ اس کے اُلٹ ثابت ہوا، بس یہ قیاس اور اندازے ہیں جو لگائے جاتے ہیں۔ اور، حکومت کی دھرنے کی اجازت کو رضامندی تصور کرنا محض ایک نادانی اور آئین و قانون سے جانکاری نہ ہونے کے سبب...
یہ اسی رپورٹ سے لیے گئے جملے ہیں۔
The output gap is still negative, and, in a few sectors, economy has yet to reach the production levels of 2018.
This growth is based on crude estimates as the census of livestock is pending.
مجھے 'جاوید چوہدری'چینل کے اس خبری عنوان پر ہنسی آ رہی ہے؛
تحریک لبیک کا پہلا دھرنا خود ن لیگ نے فیض آباد بھیجا تھا: رانا ثنا اللہ نے اعتراف کر لیا
ھاھاھا۔ خبر کو اپنی مرضی کا رُخ دینے کی آخری حد ہے۔ میرا انصافینز کو مشورہ ہے کہ چوہدری صاحب سے سو میل دُور رہیں۔ ویسے اس اعتراف کے بعد رانا ثنا کو...
پنڈی بوائز نون لیگ سے ہار گئے اور ماموں بن گئے۔ شاید آپ یہ کہنا چاہتے ہیں۔ اگر یہ بات ہے تو پھر ٹھیک ہے، ایسے بھولے بادشاہوں کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے۔
دراصل کوڈ کا مقصد ہے کہ رجسٹریشن ہو گئی ہے۔ اس کے بعد ایک دن طے کر دیا جاتا ہے کہ آپ اس دن یا پھر اس دن کے بعد سے ویکسین لگوانے کے اہل ہو گئے۔ اس کے بعد مقررہ دن یا کسی بھی اور دن جا کر ویکسین لگوا لی جائے۔ یہ اہتمام ہمارے ہاں عامۃ الناس کی روایتی سستی کے تناظر میں کیا گیا ہو گا۔
پیسے بھی جناب فیض حمید کے ذریعے فیض آباد میں نون لیگ نے تقسیم کروائے تھے۔ آئی ایس پی آر کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے چوں چوں بھی لیگی کرواتے رہے ہوں گے۔ :) جو غلطیاں جس کی ہیں، وہ اسی کے کھاتے میں ڈالی جائیں تو بہتر اور قرین انصاف ہے۔