امجد بھائی جو معنی میری سمجھ میں آتے ہیں، وہ یہ ہیں کہ شاعر دل کے سکون کی جانب توجہ مبذول کروانے کی کوشش میں ہے اور آب رواں یعنی بہتے پانی سے اس کو مماثل ٹھہراتا ہے کہ آب رواں یوں تو بہہ رہا ہوتا ہے مگر وہ پُر سکون ہوتا ہے۔ یہاں کشود کار سے مراد مشکل کا حل ہونا ہے یعنی دل کے سکون سے مشکل کے حل...