شاعرہ تو بتانا چاہ رہی کہ دل کی طبیعت ہی آہستہ خرامی کی ہے کسی کا آنا ہو یا جانا یا سب دھیرے دھیرے سے چلتا ہے اشاروں کے گلاب دھیرے سے چٹکتے ہیں اداؤں کی شراب دھیرے دھیرے سے چھلکے تو لطف آتا ہے اور اگر کوئی بچھڑ جائے تو رک رک کر کسک ہوتی رہتی ہے اور قرار بھی تھم تھم کے ہی آتا ہے :)