افسوس ہوا، مگر مجھے بے عزتی نمبر نیکسٹ کا شدت سے انتظار ہے کہ یہ قسط وار سلسلہ نہایت شاندار ہے۔ ابھی تو معاملہ فقط زیبا تک پہنچا ہے اور آپ نے اسے روک دیا۔باس کے ڈسے ہوئے کئی افراد چاہیں گے کہ کیری آن۔ باس زندہ، خجالت باقی۔
مبارکباد جنابِ منتظم، یہ فرمائیے کہ 31 مارچ کو عالم فانی میں قدم رنجہ فرمانے پر بعد ازاں اسکول یا اسکولز میں داخلے کے حوالے سے آسانی ہوئی یا مشکل پیش آئی کیونکہ زمانہ قدیم میں اکتیس مارچ کو دو تعلیمی سیشنز کے مابین حد فاصل تصور کیا جاتا تھا کہ یہ غالباََ نوے فی صد اسکولوں میں امتحان کے نتیجے کا...
ویسے علامہ محمد اقبال کا ایسا کلام بھی پروفیسر صاحب پڑھ سکتے ہیں، جس میں نوجوانوں کو مخاطب کیا گیا ہو، اگر موقع محل مناسب لگے۔ اس آرٹیکل میں ایسے اشعار مل سکتے ہیں مقبول
بھائی!
زندگی میں سدا آگے بڑھتے رہو
نیک بن کر جہاں میں چمکتے رہو
دل سے دیتے ہیں تم کو دعا ساتھیو
الوادع الوداع الوداع ساتھیو!
شمع محفل بنو یا چراغِ وطن
تم سے زندہ رہے عظمت ِ علم و فن
بدر کی طرح چمکو سدا ساتھیو
الوداع الوداع الوداع ساتھیو
اب آپ خوش ہیں کہ پتلی تماشا دکھانے والوں کو ایک ایک کر کے محب وطن حکمرانوں نے سین سے ہٹا دیا اور اس کے طفیل اب ملک ترقی کی شاہراہوں پر تیزی سے گامزن ہے۔