نتائج تلاش

  1. الف عین

    کیا ہے رانجھے نے عقدِ ثانی کا جب ارادہ بِلا ارادہ

    واہ اچھی ہزل ہے۔ ایک دو اشعار نکال کر 'سمت' کے لیے منتخب کر رہا ہوں
  2. الف عین

    ی۔ ہ۔ و ۔۔ نئی لڑی نمبر 20

    عجیب کیا ہے، ہندوستانی روپیہ بھی پاکستانی روپیے سے دوگنی قیمت کا ہے! ویسے ابھی پچھلے ماہ ہی دس روپے سے بڑھا کر پندرہ روپیے قیمت مقرر کی گئی ہے دال اور سبزیوں کی، اور انڈا کری بیس روپیے
  3. الف عین

    ا۔ب۔پ ۔۔۔۔۔ کھیل نمبر 62

    ذرا بچ کے رہوں محفل سے کہ یہاں کشمیر فتح کیا جا رہا ہے!
  4. الف عین

    غزل برائے اصلاح

    دبوچ لے گی موت کب کسی کو کچھ خبر نہیں مریں گے اپنے وقت پر کسی کو بھی مفر نہیں ------------------ درست لکھا ہے جو نصیب میں ملے گا وہ جہان میں ملے گا جب لکھا ہوا مجھے تو کچھ عذر نہیں یا ہے سب خدا کے ہاتھ میں مجھے ذرا عذر نہیں ----------------- عذر میں بھی ذال پر جزم ہوتا ہے، یہ شعر نکال ہی دیں...
  5. الف عین

    ابھی تو میں جوان ہوں(برائے اصلاح )

    ابھی تو میں جوان ہوں ابھی تو موت دور ہے ابھی مری یہ زندگی بنی ہی پُر سُرور ہے --------------------- بنی ہی... میں ہی بھرتی ہے جب کہ یہاں 'تو' بھی آنا تھا۔ مری یہ زندگی کا 'یہ' بھی اسی قبیل کا ہے۔ یعنی صاف بیانیہ یوں ہونا تھا کہ ابھی تو میری زندگی پر سرور بنی ہے! رہو نہ مجھ سے دور تم ہے چار دن...
  6. الف عین

    سرحد کے اس پار * تبصرہ جات

    میں اس پر حیران ہوں کہ ١٩٩٤ کا سفرنامہ اب لکھا جا رہا ہے اور اس طرح جیسے کل کی بات ہو۔ لگتا ہے کہ لکھا جا چکا تھا اب نوک پلک درست کر کے پوسٹ کیا جا رہا ہے
  7. الف عین

    ی۔ ہ۔ و ۔۔ نئی لڑی نمبر 20

    غالباً ایک ہی چیز کے دو نام نہیں. کری پائنٹز میں دال سبزی دس پندرہ روپے میں مل جاتی ہے ۔ ٹیک اوے بڑی ہوٹلوں میں ہوتے ہیں جہاں شاید ہی کوئی ڈش سو روپے سے کم کی ہو
  8. الف عین

    ا۔ب۔پ ۔۔۔۔۔ کھیل نمبر 62

    غریب بے چارے تو آج کل 'بڑے' کے گوشت کا پلاؤ کھانے کے لیے مجبور ہیں کہ بکرے کا گوشت یہاں پانچ سو روپے کلو ہو گیا ہے!
  9. الف عین

    ملنگ ایک ہے ( برائے اصلاح )

    کچھ مصرعے تو خوبصورت ہو گئے ہیں لیکن زیادہ تر محض قافیہ کے استعمال کی استادی کا مظاہرہ ہے اس غزل پر مزید محنت نہ کی جائے تو بہتر ہے منگ کا استعمال غلط ہے یہ لفظ ملی کے ساتھ کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے؟ اس طرح کہا جاتا ہے کہ وہ لڑکا فلاں لڑکی کی منگ ہے، مذکر ہونے پر بھی لفظ مونث ہی رہتا ہے
  10. الف عین

    غزل برائے اصلاح

    اچھی غزل ہے، بس دو غلطیاں محسوس ہوتی ہیں قرار آئے گا تم نیم باز آنکھوں سے شرابِ عشق پلا دو تو ہم غزل کہہ دیں 'گا' کے بعد کوما ضروری ہے مرے قلم کی سیاہی کا رنگ ہلکا ہے ذرا سی رنگِ حنا دو تو ہم غزل کہہ دیں ... رنگ مذکر ہے، ذرا سا رنگِ حنا ....
  11. الف عین

    برائے اصلاح - اک پھول کل چمن میں کہنے لگا خزاں سے

    دیتے تھے باری باری، اک دوسرے کو جھولے یہ مصرع بہتر ہے کچھ مجھ سے صرف نظر ہو گیا تھا بے طمع ہو گیا تھا، ہر شخص دو جہاں سے بے فکر ہی کہو، سامنے کا لفظ ہے دنیا کی بے ثباتی، آ کر تو نے دکھائی تُنے تقطیع ہونا درست نہیں پھر تو نے آ دکھائی. .. شاید بہتر ہو
  12. الف عین

    غزل برائے اصلاح

    گرمیوں. میں نہر. پہ جا. کر نہانا یاد ہے یہاں 'پر' مکمل آ سکتا ہے
  13. الف عین

    غزل برائے اصلاح

    بستہ ڈالنا محاورہ نہیں لے کے وہ بستہ مرا.... کیا جا سکتا ہے
  14. الف عین

    برائے اصلاح - اک پھول کل چمن میں کہنے لگا خزاں سے

    معذرت کہ میں نے چوتھے مصرع کو بغیر قافیہ لکھا تھا، یہ در اصل تیسرا تھا۔ عاطف بھائی کی بات درست ہے کہ اس طرح مروجہ فارمیٹ میں ڈھل جائے گی نظم
  15. الف عین

    ملنگ ایک ہے ( برائے اصلاح )

    سبھی کی سوچ ہے جدا مگر امنگ ایک ہے جدا جدا ہیں عادتیں سبھی ڈھنگ ایک ہے --------------------- سبھی کا ڈھنگ.. 'کا' شاید بھول گئے ہیں۔ لیکن سب کا َایک ہی ڈھنگ؟ سبھی کے ڈھنگ ایک ہیں تو ممکن ہے یا عمارتیں جدا جدا سبھی کا رنگ ایک ہے مزار ہیں کئی یہاں مگر ملنگ ایک ہے ------------- ایک ہی ملنگ کس طرح...
  16. الف عین

    غزل برائے اصلاح

    ماشاء اللہ بہت بہتر غزل ہے، پہلی بار بھرتی کے الفاظ سے بچنے کی کوشش دیکھی گئی ہے۔ دبوچ لے گی موت کب کسی کو کچھ خبر نہیں سبھی مریں گے وقت پر کسی کو بھی مفر نہیں ------------------ وقت پر؟ کیا سارے ایک ہی وقت میں مریں گے؟ مریں گے اپنے وقت پر کیا جا سکتا ہے لکھا ہے جو نصیب میں ملے گا وہ جہان میں...
  17. الف عین

    قرآن کا ترجمہ کرنے کے چند سنہری اصول

    گویا اشراق میں قسط وار چھپ رہی ہے یہ کتاب اور میری طرح ایک برقی کتاب بنانے کی کوشش آپ کی بھی ہے۔ لیکن کیوں کہ یہ فورم ہے اس لیے حوالے کے بغیر یہی سمجھا جائے گا کہ آپ کی ہی تحریر ہے
  18. الف عین

    برائے اصلاح - اک پھول کل چمن میں کہنے لگا خزاں سے

    اچھی قطعہ بند نظم ہے، ابتداً اس طرح کی نظمیں بہت کہی جاتی تھیں نظیر اور اختر شیرانی وغیرہ کے دور میں۔ نظیر کی نظموں میں قطعے میں اکثر چاروں مصرعے ہم قافیہ ہوتے تھے۔ تم نے چوتھے مصرع میں یہ التزام نہیں رکھا ہے۔ صرف دو اغلاط محسوس ہوتی ہیں۔ بھنوروں میں معلنہ ن نہیں ہے، تم نے فاعلن بنایا ہے جب کہ...
  19. الف عین

    برائے اصلاح

    مقام یارِ غار اچھا لگ رہا ہے ۔ عتیق کے لقب سے بہت کم لوگ واقف ہوں گے
Top