بات کو کچھ ثبات ہے ہی نہیں
بات یہ ہے کہ بات ہے ہی نہیں
زندگی سے نجات ہے ہی نہیں
کیا مریں جب وفات ہے ہی نہیں
یا یہ جینا حیات ہے ہی نہیں
یا مری ذات ذات ہے ہی نہیں
کیا مزہ ہے کہ التفات تو ہے
وعدۂِ التفات ہے ہی نہیں
میں سما پا نہیں رہا اس میں
یہ مری کائنات ہے ہی نہیں
پڑ رہیں تو تمام اندھیرا ہے...
کرتے ہیں محبت کی طرح ، کارِ ہوس لوگ
ہم بے ہنَروں کو یہ ہنر ، کیوں نہیں آتا ؟
اب شام ہوئی جاتی ہے ، اور شام بھی گہری
اے صُبح کے بُھولے ہوئے ! گھر کیوں نہیں آتا ؟
رحمان فارس
ماشاءاللہ ،
سبحان اللہ ،
عشق رسول ﷺ سے مہکتے الفاظ اور ہرلفظ سے محمد رسول اللہ ﷺ کی نعت بیاں ہوتی محسوس ہو رہی ہے ۔
ہمیشہ کی طرح زبردست اور عمدہ تخلیق ،
اللہ کریم آپ کو اپنی نور کی روشنی سے منور فرمائیں ۔آمین