میں آپ کے الفاظ آپ ہی کو لوٹاتا ہوں اس اضافے کے ساتھ کہ نام نہاد محب وطنی اور رومانیت پسندی سے باہر حقیقت پسندی اور تجزیہ بھی کوئی چیز ہے۔
میں ادھر ہائر ایجوکیشن کمیشن کی رپورٹ اور قائد اعظم یونیورسٹی کے پروفیسر پرویز ہود بھائی کے لنک لگانا چا رہا تھاتاہم آپ کا استدلال اب افراد کی رینکنگ تک پہنچ...
اگر یہی معیار "استدلال "ہے تو میرے مشاہدے میں ایسے لوگ ہیں جو پاکستان کے کسی گمنام کالج سے تعلیم پا کر اب برسوں بعد کینیڈا کی بہترین کمپنیوں میں ملازمت کررہے ہیں۔ کیا خیال ہے کہ ان گمنام کالج کی معیاری تعلیم کے حق میں دعویٰ ہوگیا ؟
عنیقہ ناز کی فکر سے خار کھا کر لاجواب ہونے والے متعصب لوگ عموماً ایسی ہی رائے رکھتے ہیں۔ ;)
پاکستان کے تعلیمی نظام اور یونیورسٹیز میں ہونے والے تحقیق کی کیا وقعت ہے اس کے لئے میں آپ کو مزید حوالے بھی فراہم کر سکتا ہوں تاہم آپ نے عنیقہ ناز کے متعلق بے تکا تبصرہ کر کے اپنی سنجیدگی کھو دی ہے۔...
متوازی تعلیمی نصاب سے پیچھا چھڑانے کا ہی تو یہ ایک مفید طریقہ ہے۔ کہ اور کچھ نہیں تو کم از کم خالص سائنسی مضامین اور ریاضی وغیرہ جہاں تک ممکن ہوسکے انگریزی میں رکھے جائیں۔
"عالمی معیار" :grin:
اردو بلاگر عنیقہ ناز جو کراچی یونیورسٹی سے وابستہ رہ چکی ہیں ان کی ایک چشم کشا تحریر کا لنک دے رہا ہوں۔ تحریر ، اس میں دیے گئے لنک اور بالخصوص تحریر کے تبصروں پر نظر ڈالنا مت بھولئے گا۔ :)
ایک نوحہ
یہ اصولی موقوف صرف اردو ہی نہیں بلکہ پنجابی ، پشتو اور سندھی وغیرہ کے حق میں بھی اپنایا جا سکتا ہے۔ تاہم اس قسم کے اقدامات کے مثبت عملی اثرات بہت کم ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ایک طبقہ فکر کا خیال ہے کہ تمام نصاب اردو میں کردینے سے پاکستان کے نظام تعلیم میں یکلخت کوئی انقلاب سا آ جائے گا۔ ایسا نہیں...
پہلی سے آٹھویں جماعت تک سات مضامین ہوتے ہیں۔ ان میں ریاضی ، سائنس اور انگریزی ہی انگریزی زبان میں ہو باقی چار اردو میں ہی رہیں تو خوب ہے۔
میٹرک میں تمام سائنس مضمامین بشمول ریاضی اور انگریزی لازمی کے علاوہ باقی تین مضامین ہی اردو میں رہنے چاہیں۔
سائنس کی کسی بھی اصطلاح کا اردو ترجمہ کرنے کا...
بھئی ویسے آپ کی قوت مشاہدہ کی داد دینا پڑے گی۔
مجھے تو ڈر ہے کہ اگر کبھی حقیقت میں آمنا سامنا ہوگیا تو لمحہ زن میں میری شخصیت کا ایکسرے کر کے میرے ہاتھ میں نہ تھما دیں۔ :nailbiting: