ہمیں آج کل ایسے ہی محفلین کی ضرورت ہے جن کو کچھ نہ آتا ہے۔ جن کو بہت کچھ آتا ہے ان سے ہم ویسے ہی خائف ہوئے بیٹھے ہیں۔۔۔۔ :p
یہ خائف، صائب، تائب اور نائب کا ہم قافیہ لفظ ہے۔
زہر میں بجھے سارے تیر ہیں کمانوں پر
موت آن بیٹھی ہے جابجا مچانوں پر
ہم برائی کرتے ہیں ڈوبتے ہوئے دن کی
تہمتیں لگاتے ہیں جاچکے زمانوں پر
اس حسین منظر سے دکھ کئی ابھرنے ہیں
دھوپ جب اترنی ہے برف کے مکانوں پر
شوق خود نمائی کا انتہا کو پہنچا ہے
شہرتوں کی خاطر ہم سج گئے دکانوں پر
کس طرح ہری ہوں گی...
نمرہ کی صلاحیتوں کے ہم پہلے سے ہی معترف ہیں۔ بہت اچھا لکھتی ہیں۔ اور شاعرہ بھی ہیں۔ آپ ذرا ان کے مراسلات کھنگالنے کا کشٹ کیجیے۔ آپ بھی معترف ہوجائیں گے۔ :)
خوش عام دید ہما حمید ناز صاحبہ۔ امید ہے کہ آپ کے علم سے ہم بھی گاہ فیض یاب ہوتے رہیں گے۔
حاضر مرزا بھائی۔۔۔۔ "مشیر غذائیات" جیسے بڑے بڑے القابات دیکھ کر تو ہم یوں بھی بائب ہونے کا مصصم ارادہ کیا بیٹھے ہیں۔ :)