فطرت میں ہے شانِ خود نمائی
(مغنی تبسّم)
وہ دیکھ اُفق ہوا فروزاں
آثارِ سحر ہوئے نمایاں
تاریکی شب ہوئی ہے روپوش
خورشید ہے نور سے ہم آغوش
تازہ ہوا شورِ سازِ ہستی
وہ نغمہء دل نوازِ ہستی
دریاؤں میں آگیا طلاطم
لہروں میں پڑی ہے شورش قم
گلزار کی خوش نما فضا دیکھ
اشجار کی دل رُبا ادا دیکھ...