نتائج تلاش

  1. کاشفی

    ہم ہیں پاکستان

  2. کاشفی

    ہم ہیں پاکستان

  3. کاشفی

    خوبصورت پاکستان خوبصورت کراچی کی آنکھوں سے

    محمد احمد بھائی اللہ آپ کو بھی خوش رکھے۔ آمین۔
  4. کاشفی

    آج کی تصویر

  5. کاشفی

    آج کی تصویر

  6. کاشفی

    خوبصورت پاکستان خوبصورت کراچی کی آنکھوں سے

    لاہور - پنجاب ، پاکستان
  7. کاشفی

    خوبصورت پاکستان خوبصورت کراچی کی آنکھوں سے

    کراچی - سندھ، پاکستان
  8. کاشفی

    خوبصورت پاکستان خوبصورت کراچی کی آنکھوں سے

    کوئٹہ - بلوچستان ، پاکستان
  9. کاشفی

    ابھی تک ہے دھبّہ جبینِ خودی پر - گوپال مِتّل

    بہت شکریہ مغزل بھائی!
  10. کاشفی

    اسی کا نقش یہ ہستی ہے، مٹ گیا ہوں میں - کیفی چریا کوٹی

    غزل (کیفی چریا کوٹی) اسی کا نقش یہ ہستی ہے، مٹ گیا ہوں میں کوئی بتائے کہ اب کس کو دیکھتا ہوں میں نکل گیا تھا بہت دور اپنی ہستی سے یہ کس کو ڈھونڈ رہا تھا کہ مل گیا ہوں میں وہ جس نے چھوڑ دیا مجھ کو پاس منزل کے اسی مسافرِ عارف کا نقشِ پا ہوں میں تمام عمر ہے اس ذوقِ بے خودی کے نثار وہ مل...
  11. کاشفی

    ہر چند بستہ چشم رہا بستہ لب رہا - عبدالعزیز فطرت

    شکریہ امبرین صاحبہ! اور پیاسا صحرا صاحب!
  12. کاشفی

    فطرت میں ہے شانِ خود نمائی - مغنی تبسّم

    :) ۔ شادی کے بعد انسان سلیقہ مند اور سگھڑ ہوجاتا ہے۔۔۔
  13. کاشفی

    عزت سے مجھے پاس جو بٹھلاؤ تو آؤں - الکزینڈر ہیڈرلی ، تخلص آزاد

    یوسف کا منہ نہ دیکھے زلیخا تمام عمر دیکھے جو ایک بار مرے سیم تن کے پاؤں عارض کو اس کے گل کہیں پھر کیا سمجھ کے ہم بہتر ہوں گل سے جب بتِ گل پیرہن کے پاؤں اس بت کی راہ میں جو مجھے ساتھ لے چلے دھو دھو کے بار بار پیوں برہمن کے پاؤں رنگِ حنا کے بوجھ سے اُٹھنا محال ہے نازک ہیں کس قدر مرے نازک بدن...
  14. کاشفی

    عزت سے مجھے پاس جو بٹھلاؤ تو آؤں - الکزینڈر ہیڈرلی ، تخلص آزاد

    آزاد فرانسیسی غالب کے شاگر تھے۔ ذرا غالب کے رنگ میں آزاد کو دیکھئے۔ فتنہ اٹھے ہے کس طرح اُٹھ کے ذرا دکھا کہ یوں حشر بپا ہو کس طرح چل کے ذرا بتا کہ یوں میں نے کہا کہ عشق میں جلئے تو جلئے کس طرح خس کو اُٹھا کے اس نے جھٹ آگ پہ رکھ دیا کہ یوں
  15. کاشفی

    عشق میں ترے مرنا عمرِ جاودانی ہے - الکزینڈر ہیڈرلی ، تخلص آزاد

    غزل (ایک فرانسیسی اُردو شاعر : الکزینڈر ہیڈرلی - Alexender Hederley، تخلص آزاد) عشق میں ترے مرنا عمرِ جاودانی ہے یہ جو زندگانی ہے خاک زندگانی ہے ان کے سننے کے قابل کب مری کہانی ہے وہ کبھی جو سنتے ہیں اپنی خوش بیانی ہے آہ کی شرر ریزی آج آزمانی ہے آگ گھر میں دشمن کے، شب مجھے لگانی ہے جو کریں...
  16. کاشفی

    عزت سے مجھے پاس جو بٹھلاؤ تو آؤں - الکزینڈر ہیڈرلی ، تخلص آزاد

    غزل (ایک فرانسیسی اُردو شاعر : الکزینڈر ہیڈرلی - Alexender Hederley، تخلص آزاد) عزت سے مجھے پاس جو بٹھلاؤ تو آؤں کیوں آپ سے آؤں مجھے لے جاؤ تو آؤں تم دل کو بٹھاتے ہو مرے مجھ کو بلا کر دل کو نہ بٹھاؤ مجھے بٹھلاؤ تو آؤں کیا گھر میں تمہارے درودیوار کو دیکھوں تم اپنی جو صورت مجھے دکھلاؤ تو آؤں...
  17. کاشفی

    گلزار نظم - غالبؔ ۔ گلزار

    بہت خوب !
Top