غزل
(کیفی چریا کوٹی)
اسی کا نقش یہ ہستی ہے، مٹ گیا ہوں میں
کوئی بتائے کہ اب کس کو دیکھتا ہوں میں
نکل گیا تھا بہت دور اپنی ہستی سے
یہ کس کو ڈھونڈ رہا تھا کہ مل گیا ہوں میں
وہ جس نے چھوڑ دیا مجھ کو پاس منزل کے
اسی مسافرِ عارف کا نقشِ پا ہوں میں
تمام عمر ہے اس ذوقِ بے خودی کے نثار
وہ مل...