ہاں یہ بھی امکان ہے۔ لیکن اگر سائیڈ سے بھی ٹکرائی تو ڈرائیور کے جسم پر کچھ نہ کچھ چوٹیں ہونی چاہیں تھیں۔ لیکن یہاں تو وہ بس ماتھے پر پٹی لگائی بیٹھا ہے۔
بہرحال معجزے سے کم نہیں یہ۔ ورنہ تو چالیس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی کار اگر فرنٹ سے ٹکرائے تو ڈائیور کا صحیح سلامت بچنا ممکن نہیں ہوتا۔
ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ کنوئیں کی تہہ میں بہت سا پانی اور نرم ریت ہو۔ جس نے کچھ بچت کر دی ہو۔