میرے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا۔ بھلا ہو ادب دوست بھائی کا کہ اُنہوں نے جو کہا مجھے اچھا لگا اور میں ان کی سب باتوں سے متفق ہوں۔
اللہ آپ کی والدہ محترمہ پر اپنی رحمتیں برکتیں نچھاور کرے۔ آمین۔
کچھ خانماں برباد تو سائے میں کھڑے ہیں
اس دور کے انساں سے تو یہ پیڑ بھلے ہیں
چیونٹی کی طرح رینگتے لمحوں کو نہ دیکھو
اے ہمسفرو! رات ہے اور کوس کڑے ہیں
پتھر ہیں تو رستےسے ہٹا کیوں نہیں دیتے
رہرو ہیں تو کیوں صورتِ دیوار کھڑے ہیں
رسا چغتائی
وہ جن درختوں کی چھاؤں میں سے مسافروں کو اٹھا دیا تھا
انہیں درختوں پہ اگلے موسم جو پھل نہ اترے تو لوگ سمجھے
اس ایک کچی سی عمر والی کے فلسفے کو کوئی نہ سمجھا
جب اس کے کمرے سے لاش نکلی، خطوط نکلے تو لوگ سمجھے
وہ گاؤں کا اک ضعیف دہقاں، سڑک کے بننے پہ کیوں خفا تھا
جب ان کے بچے جو شہر جاکر کبھی نہ...
ہمم۔۔۔۔! شعر کی صحت جانچنے کے لئے میں بھی یہ تکنیک استعمال کرتا ہوں۔
لیکن میں اسے براہِ راست پیسٹ کرنے کے بجائے اس کے بعد والا آپشن Paste as plain text استعمال کرتا ہوں۔ اس طرح عبارت محفل کی ڈیفالٹ اسٹائل میں ڈھل جاتی ہے۔ :)