دیکھی جو فضائے کوئے نبی جنت کا ٹھکانہ بھول گئے
سرکار کا روضہ یاد رہا دنیا کا فسانہ بھول گئے
سرکار دو عالم کے در پر جس وقت پڑی بے تاب نظر
آقا کی ثنا لب پر آئی ہر ایک ترانہ بھول گئے
جب پہنچے مواجہ پر ان کے اک کیف میں ایسا ڈوب گئے
جو حال سنانا تھا ان کو وہ حال سنانا بھول گئے
اے دوست بتائیں...