نتائج تلاش

  1. الف عین

    غزل برائےاصلاح

    قوافی سارے غلط باندھے گئے ہیں سوائے سحر کے۔ قیر شہر دہر وغیرہ میں ہ پر سکون یا جزم ہے۔ فتحہ یا زبر نہیں جب کہ زبر کے ساتھ ہی وزن درست ہوتا ہے۔ خنک میں خ اور ن دونوں پر پیش ہے۔ اسے بھی وزن میں ساکن غلباندھا گیا ہے۔ آخری تینوں اشعار کے اولی مصرعے وزن میں نہیں، آدھے رکن کی کمی ہے
  2. الف عین

    ایک سوال اساتذہ سے خصوصاً عروضیوں سے

    فاعلن کو فاعلان میں تبدیل ہونا کہا جائے یا فاعلات میں، بات ایک ہی ہے۔ اسی طرح فعلن کو فعلان. فعلات یا مفعول میں تبدیل کیا جانا بھی ایک ہی بات ہے
  3. الف عین

    بغرض اصلاح: ’وہ ضربِ کلیمی ؔ ،خدا تجھ کو بخشے

    آمین بہت بہت مبارک ہو فاخر۔ مبارکباد قبول کرو اور حمدان کے لیے ڈھیر ساری دعائیں۔ اللہ تعالیٰ اسے والدین اور دیگر کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے اور اسے دونوں جہان کی نعمتوں سے نوازے۔ دعائیہ غزل کی ردیف ہی گڑبڑا گئی ہے۔ محض خدا بخشے عموماً مغفرت کی دعا سمجھی جاتی ہے۔ درست الفاظ یوں ہونے تھے کہ 'خدا...
  4. الف عین

    میں اہم تھا - یہی وہم تھا

    گہما گہمی محاورہ ہے، گہما گہم میں نے نہیں سنا
  5. الف عین

    یہ میری شعلہ بیانی۔

    اس مصرعے میں وزن کا مسئلہ درست پہچانا ہے راحل نے۔ لیکن قوافی میرے خیال میں ڈھا، جگا اور مٹا درست قوافی ہیں ۔ فریبوں کے ساتھ سوچوں، پیچوں، جانوں، لوگوں قوافی ہو سکتے ہیں لیکن غزل کے مطلع میں جس طرھ پیچوں. سوچوں غلط قوافی ہوں گے ویسے ہی بند کے دو متصل مصرعوں میں!
  6. الف عین

    میرے (راحل) مجموعہ کلام کی اشاعت

    مبارکباد قبول کرو۔ اس کی ان پیج فائل مجھے بھیج دو کہ برقی کتب میں شامل کر دی جائے۔ غلطیاں سدھار کر!
  7. الف عین

    خواہشِ وصل بنی، ہجر کے آزار بنے

    اچھی غزل ہے عاطف! مبارک ہو
  8. الف عین

    شامیں اداس میری ، صبحیں ملال تیرا----برائے اصلاح

    تیرا میرا کے ساتھ پَیرا قافیہ نہیں ہو سکتا، اس میں واضح زبر ہے۔ اس غزل میں نسبتاً کم اغلاط ہیں اور ہم تم ملیں گے... والا شعر بطور خاص پسند آیا۔ فام physical appearance کی صورت میں استعمال کیا جاتا ہے، مشک فام اس لحاظ سے غلط ترکیب ہے۔ یارا کے معنی قابو، اہلیت، وغیرہ ہے، یہاں شاید آپ نے 'میرے یار'...
  9. الف عین

    برائے اصلاح

    چھ قوافی میں سے چار تو 'بولتا' ہی ہو گئے ہیں، یا رو مزید کھولتا، روکتا، تولتا والے اشعار کہو یا کچھ 'بولتی بند کر دو'! کہ نگاہوں سے.... والا مصرع فعِلاتن سے شروع ہو گیا ہے جب کہ بحر فاعلاتن سے شروع ہے۔ فاعلاتن مفاعلن فعلن میں عموماً فاعلاتن کو فعلاتن میں نہیں بدلا جاتا، ہاں، فعلاتن فعلاتن فعلن...
  10. الف عین

    غزل برائے اصلاح : اک دن یوں حسرتوں کا تماشہ دکھائی دے گا

    اس مصرعے کو مفعول فاعلات مفاعیل فاعلاتن کے طور پر تقطیع کر رہا ہو گا، لیکن یہ غزل اس اضافی رکن کے ساتھ اس بحر میں نہیں ہے
  11. الف عین

    برائے اصلاح

    یہ "مشہور" اشعار کس کے ہیں؟ کسی دوسرے کے اشعار پر اصلاح یہاں کرانے کی ضرورت نہیں۔ ایازی تو قافیہ بھی نہیں ہے، انہیں غزل کے اشعار کہا ہی نہیں جا سکتا
  12. الف عین

    برائے اصلاح

    یہ مصرع درست ہے
  13. الف عین

    غزل برائے اصلاح: ان کہی بات بھی اِظہار میں آ جاتی ہے

    بات تہذیب کی پگڈنڈیوں سے گزرے تو کس قدر چاشنی گفتار میں آ جاتی ہے پگڈنڈیوں کا اس طرح باندھا جانا پسند نہیں آیا۔ چاشنی کی ی کا اسقاط بھی اچھا نہیں باقی اشعار درست ہیں
  14. الف عین

    حبّت میں یہ بھی کڑا امتحاں ہے ---برائے اصلاح

    حسینوں کے ڈیرے ابھی تک ہیں دل میں ہوا جسم بوڑھا مگر دل جواں ہے سے تو خیال ہی بدل گیا جو مجھے پسند آیا تھا! حوروں والا ہی خیال رکھو، دوسرا مصرع یوں کیا جا سکتا ہے کمر میری جھک کر جو مثلِ کماں ہے یوں ہی' تو اب بھی استعمال نہیں کیا گیا! آنسوؤں والا شعر بے ربط ہے، پہلے مصرع کا درست بیانیہ نثر میں...
  15. الف عین

    برائے اصلاح

    اگر اوزان متفاعلن چار بار ہے تو زبردستی وزن میں لانے کے لیے کئی الفاظ کے آخری حروف کا اسقاط اچھا نہیں لگتا۔ مطلع میں ہی ترے، چہرے، کلی، سنو، آخری شعر کا اولی مصرع وزن میں نہیں
  16. الف عین

    غزل برائے اصلاح : اک دن یوں حسرتوں کا تماشہ دکھائی دے گا

    تماشا تو واضح طور پر وزن میں نہیں آتا۔ البتہ 'کبھی' کی ی کے اسقاط کے ساتھ وزن درست ہو جاتا ہے اس لیے عروض سائٹ نے قبول کر لیا ہو، اگرچہ کبھی کی ی کا گرنا قابل قبول نہیں۔ تماشا کی جگہ مطلع میں 'میلہ' استعمال کیا جا سکتا ہے کبھی ذکر... کو کچھ ذکر.... کرنے سے وزن کا مسئلہ حل ہو جائے گا دریا سی آنکھ...
  17. الف عین

    تازہ کاوش

    میں نے بھی پہلے خالی پن کا ہی عوامی روپ سمجھا تھا، لیکن پھر بحر و اوزان کی وجہ سے خیال آیا کہ یہ تشدید والا پنّا ہے! صفحہ ہی بہتر ہو گا۔ اس کے علاوہ 'اے مہرباں' میں ے گر رہی ہے جو مستحسن نہیں۔ عرض اتنی ہے... یا عرض بس یہ ہے مہرباں میری تخاطب کو واضح کرنا ہو تو یوں لکھو عرض بس یہ ہے، مہرباں!، میری
  18. الف عین

    نئی غزل

    ٹھیک ہے
  19. الف عین

    حبّت میں یہ بھی کڑا امتحاں ہے ---برائے اصلاح

    اسی غزل میں اغلاط یا خامیاں نسبتاً کم ہیں! شاید میرا مشورہ مان لیا گیا ہے! البتہ موضوع کے نئے پن کا اظہار صرف ایک شعر میں ہوا ہے۔ محبّت میں یہ بھی کڑا امتحاں ہے تھا میں جس پہ قرباں وہی بد گماں ہے ---------------- دوسرا مصرع شاید یوں بہتر ہو ہوں قربان جس پر، وہی.... ظاہر ہے کہ قربان صرف ماضی میں...
  20. الف عین

    دُکھے دل کسی کا نہیں یہ گوارا----برائے اصلاح

    اب آپ میری بات ماننے پر تیار نہیں تو پھر آپ کی خوشی کی خاطر اس غزل کو اصلاح کے لیے قبول کر لیتا ہوں دُکھے دل کسی کا نہیں یہ گوارا بنے آدمی ، آدمی کا سہارا ------------ کس کو گوارا نہیں؟ دوسرے مصرعے کا پہلے سے تعلق؟ ملا مال تم کو بطورِ امانت کبھی یہ نہ سمجھو ہے سارا تمہارا ---------- ملا مال...
Top