آپ کو بھی بہت بہت عید مبارک یوسف بھائی۔ ہمارے اندر قربانی کی روح صرف بوٹیاں کاٹنے تک ہی باقی رہ گئی ہے۔ چھری پھرتے دیکھنے کی ہمت اختلاجِ قلب کی نذر ہو چکی ہے۔ ڈر رہتا ہے کہ بکرے کی روح سے پہلے کہیں ہماری روح رب کے حضور پیش نہ ہو جائے۔:)
یار یہ وہی انگلیاں ہیں جو چارہ کاٹتے وقت آئے روز درانتی کی زد میں آتی رہی ہیں اب یہ انفیکشن پروف ہیں۔ ان پر تو ایک دھار ہی مار دو تو ٹھیک ہو جاتی ہیں۔:)