جن کے سجدوں سے منّور ہے جبینِ آفتاب
میرے حرفوں کی عبادت اُن خداوالوں کے نام
میری شہ رگ کا لہو، نذرِ شہیدانِ وفا
میرے جذبوں کی عقیدت کربلا والوں کے نام
(محسن نقوی شہید)
اللہ رب العزت عدل اور انصاف کرتا ہے۔۔وہ گناہ جس سے کسی دوسرے کا ناحق نقصان ہوا ہو تو اس گناہ کا حساب ضرور دینا پڑتا ہے۔۔۔اس گناہ پر نادم ہونا اچھی بات ہوتی ہے۔۔لیکن اس کا حساب و کتاب تو اللہ کے پاس ضرور ہوگا۔۔۔
ہم بھی خُورشید و قمر رکھتے ہیں
(محسن نقوی شہید)
نوکِ نیزہ پہ جو سَر رکھتے ہیں
وہ زمانوں کی خبر رکھتے ہیں
ہم کو مت خانماں برباد سمجھ
ہم تو فردوس میں گھر رکھتے ہیں
ہو محبت جنہیں زندانوں سے
سانس لینے کا ہُنر رکھتے ہیں
بُخلِ دریا سے ہمیں کیا مطلب؟
ہم تو کوثر پہ نظر رکھتے ہیں
زور پر شامِ...
رُخ سے پردے کو ہٹاؤ تو مزا آجائے
دہر کو طور بناؤ تو مزا آجائے
میری راتوں میں شبِ نور نہیں ہے کوئی
رُخِ روشن جو دکھاؤ تو مزا آجائے
شور برپا ہے پسِ پردہ نہیں ہے کوئی
ایسے میں پردہ اُٹھاؤ تو مزا آجائے
(علامہ سید ذیشان حیدر جوادی کلیم آبادی)
وہ جس کے سر کو کوئی طوق بھی جھکا نہ سکے
علی کا نام مناسب ہے بس اُسی کے لیئے
ترے بیان پہ یہ بےبسی یزید کی تھی
ملا نہ زہر بھی ظالم کو خودکشی کے لیئے
(کلیم الہ آبادی)
یہ درس کربلا کا ہے
کہ خوف بس خدا کا ہے۔
ہجرت کسی مسئلے کا حل نہیں۔جی! جہاں انسانیت کی قدر رَتّی برابر بھی نہیں ۔۔۔ ان سے ہمدردی کے دو بول یا کوئی توقع رکھنا فضول ہے۔۔۔
جہاں ناحق قتل کیئے جانے والوں اور شہید ہونے والوں پر خوشیاں منائی جاتی ہوں۔۔وہاں اللہ کا عذاب آتا ہے۔۔