ارے ہاں یاد آیا۔ ڈاکٹر حمید اللہ عرصہ دراز پیرس کی کسی جامعہ سے منسلک رہے ہیں۔ شائد اس کا ہی تذکرہ ہو۔
بہرحال اس سے جاوید چوہدری کے مرتبہ چھوڑو پر کوئی اثر واقع نہیں ہوتا۔
آپ ایسا کریں۔۔۔
درخت کے نیچے کھڑے ہو جائیے۔ اور سانس روک کر سو دفعہ کہیں: " کچا پپیتا ، پکا پپیتا ، کچا پپیتا ، پکا پپیتا ۔۔۔۔ "
امید ہے کہ کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد ہوگا۔
اور مجھے تو پیرس میں دنیا کے اس بہت بڑے اسلامک انسٹی ٹیوٹ کے بارے میں جاننا ہے۔ کالم نگار نام ہی لکھ دیتا۔
ویسے جاوید چوہدری چھوڑو ہے۔ اپنے کالمز میں مرچ مسالا لگا کر گپیں ہانکتا ہے۔ اس کی پرانی عادت ہے۔
ایک مشورہ مجھ ناقص العقل کی طرف سے بھی:
بہنو اور بھائیو! اپنے آپ کو اپنے شریک حیات کا شریک حیات سمجھنا۔ کبھی اپنے شریک حیات کو اپنی متاع مت سمجھنا۔ :):)