اردو سائنس بورڈ
قدرتی و سماجی علوم اور ٹیکنالوجیز سے متعلق 1000 سے زائد اردو کتب
بی ایس سی / ایم ایس سی سطح کی نصابی کتب
بنیادی علوم ، سماجی علوم ، ٹیکنالوجیز ، حوالہ جاتی کتب ، سائنسی انسائیکلو پیڈیا ، معلومات عامہ
عام قارئین اور چھوٹے بچوں کے لیے سائنسی کتب
اردو زبان میں سائنسی و تکنیکی...
اسلم کمال نے فنِ خطاطی میں ایک نئے خط بعنوان خطِ کمال کی بنا رکھی ہے۔
"خط کمال" کے وہ تمام نسخے جو اسلم کمال صاحب کی کتاب "اسلامی خطاطی: ایک تعارف" میں موجود ہیں۔ اس ربط سے ڈاؤن لوڈ کیجیے
بشکریہ ابوشامل
علامہ اقبال کا معاشرہ قیدِ کتاب میں ہے
(اسلم کمال)
مطالعہ انسان ہر ایک مصور کا جلی موضوع فن رہا ہے۔ اس فطری رجحان کی تہذیبی اور موروثی کشش میں وہ کسی مثالی فرد کی بطور ماڈل یا سٹر (sitter) تلاش میں ہمہ وقت رہتا ہے۔ وہ ایک شعبہ زندگی کے مثالی فرد کے ساتھ دوسرے شعبہ زندگی کے مثالی فرد کے مابین...
فن خطاطی کے نامور استاد اور متحرک شخصیت
منور اسلام
(ماہنامہ پھول دسمبر 2011 میں شائع شدہ مضمون از خورشید عالم گوہر قلم )
منور اسلام ایک ایسا نام جسے فنِ خطاطی کی متحرک اور ان تھک محنت کرنے والی شخصیت کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ وہ معروف خطاط جناب عبد الواحد نادر القلم کے فرزند ہیں۔ ان کی تربیت...
غریبوں کی جو ثروت ہیں ، ضعیفوں کی جو قوت ہیں
انہیں عالم کے ہر دکھ کی دوا کہنا ہی پڑتا ہے
انہیں فرماں روائے انس و جاں کہتے ہی بنتی ہے
انہیں محبوبِ رب ِدوسرا کہنا ہی پڑتا ہے
زہے تاثیر ، ان کا نام نامی جب لیا جائے
لبوں کو لازما صلِ علی کہنا ہی پڑتا ہے
جہاں بھر کو کیا سیراب جن کے فیضِ بے حد نے...
غمگسار اپنے ہیں سرکار یہ بس دیکھا ہے
غم کے بارے میں نہیں جان سکے ہم کیا ہے
آپ کے لطف و کرم سے ہے سلامت ایماں
ایک محشر ہے کہ جو چاروں طرف برپا ہے
دستگیری اسے کہتے ہیں کسی موڑ پہ بھی
امتی کو نہیں اندیشہ کہ وہ تنہا ہے
کیوں نہ ہو آپ کی رحمت پہ گنہگار کو ناز
اُس کے بارے میں یہ ارشاد کہ وہ اپنا ہے...
آپ سا کوئی نہیں کوئی نہیں کوئی نہیں
آپ نبیوں کا ہیں ارمان رسول عربیﷺ
۔۔۔
اے رسول امیں، خاتم المرسلیں، تجھ سا کوئی نہیں ، تجھ سا کوئی نہیں
ہے عقیدہ اپنا بصدق و یقیں، تجھ سا کوئی نہیں ، تجھ سا کوئی نہیں
۔۔۔
سرورِ سروراں فخرِ کون و مکاں ، تجھ سا کوئی کہاں تجھ سا کوئی کہاں
تیری چوکھٹ ہے بوسہ گہِ...
نعوذ باللہ، آپ کو شعر سمجھ ہی نہیں آیا۔ حلق سے کیسے اترے۔
شاعر نے حضرت امام حسین کے سجدہ ء آخر کا تذکرہ کیا ہے جو انہوں نے اللہ تعالی کے حضور کربلا میں ادا کیا۔
محمدعلم اللہ اصلاحی
ایسے ہو تا ہے!
شیخ پڑے محراب حرم میں پہروں دوگانہ پڑھتے رہیں
. سجدہ ایک اس تیغ تلے کا ان سے ہو تو سلام کریں
-
-
اللہ اللہ تیرا سجدہ اے شبیہ مصطفی
جیسے خود ذاتِ پیمبر ہو بہ ہو سجدے میں ہے
تھا عمل پیرا جو " كَلَّا لَا تُطِعْهُ " پر وہ آج
بن کے " وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ "کی آرزو...
ا سلام اپنے پاس ہے صدقہ حسینؑ کا
افضل ہے سب سجود میں سجدہ حسینؑ کا
اُن ظالموں نے اُس کا بھی رکھا نہیں لحاظ
تصویرِ مصطفیٰؐ تھا جو بیٹا حسینؑ کا
دوزخ کی آگ مجھ کو جلائے گی کس طرح
جیسا سہی مگر ہوں مَیں بیٹا حسینؑ کا
دنیا میں خوار اس لیے ہم ہو گئے صفیؔ
چھوڑا ہوا ہے ہم نے جو رستہ حسینؑ کا
بختِ خفتہ نے مجھے روضے پہ جانے نہ دیا
چشم و دل سینے کلیجے سے لگانے نہ دیا
آہ قسمت مجھے دنیا کے غموں نے روکا
ہائے تقدیر کہ طیبہ مجھے جانے نہ دیا
پاوں تھک جاتے اگر پاوں بناتا سر کو
سر کے بل جاتا مگر ضعف نے جانے نہ دیا
سر تو سر، جان سے جانے کی مجھے حسرت ہے
موت نے ہائے مجھے جان سے جانے سے جانے نہ...