مفاہمت نہ سکھا جبرِ ناروا سے مجھے
میں سر بکف ہوں، لڑا دے کسی بلا سے مجھے
زباں نے جسم کا کچھ زہر تو اگل ڈالا
بہت سکون ملا تلخیٔ نوا سے مجھے
رچا ہوا ہے بدن میں ابھی سرورِ گناہ
ابھی تو خوف نہیں آئے گا سزا سے مجھے
میں خاک سے ہوں مجھے خاک جذب کر لے گی
اگرچہ سانس ملے عمر بھر ہوا...