تخیل سے مرے وہ شمعِ نورانی نہیں جاتی
وہ اُس کی ضو فشاں لپٹوں کی تابانی نہیں جاتی
.. لپٹیں تو شعلے والی آگ میں ہوتی ہیں، شمع میں نہیں
دلِ بے کل کو بہلانے کے ساماں کر لئے لاکھوں
مگر میں کیا کروں میری پریشانی نہیں جاتی
... درست
بہ کثرت آبرو ریزی کے قصے روز سنتی ہُوں
مگر پھر بھی یہ عالم ہے کہ...