فیض کی ایک نظم کا ٹکڑا عمران بھائی کی نذر
یہ فصل امیدوں کی ہم دم
اس بار بھی غارت جائے گی
سب محنت صبحوں شاموں کی
اب کے بھی اکارت جائے گی
کھیتی کے کونوں کھدروں میں
پھر اپنے لہو کی کھاد بھرو
پھر مٹی سینچو اشکوں سے
پھر اگلی رت کی فکر کرو
پھر اگلی رت کی فکر کرو
جب پھر اک بار اجڑنا ہے
اک...