منظر نقوی کی اس خوبصورت غزل کی پیروڈی کے ابھی تین ہی شعر بنے ہیں۔ملاحظہ فرمائیے
دیکھ کر خوش میں ہوا ہوں تو تعجب کیا ہے
حبشنوں میں بھی تو گلفام نکل آتے ہیں
شرم سے ہم ہی جھکا لیتے ہیں نظریں اپنی
جب وہ بے پردہ سرِ بام نکل آتے ہیں
غلطیوں سے بھی کبھی نام نکل آتے ہیں
ہم غریبوں کے جو انعام نکل آتے ہیں