پیار کر کے کہاں چلے گئے؟ یہ سوال اٹھتا ہے اس شعر میں۔ ویسے چل بھی سکتا ہے کہ ردیف کی مجبوری ہے جسے نبھایا نہیں جا سکا ہے
پھر اتنی جلدی کیوں بھلا دنیا سے ڈر گئے
روانی اب بھی مخدوش ہے، الفاظ بدلو جیسے
بس دو ہی دن میں آپ تو دنیا....
اب غلطی یہ ہے کہ درستی اصل مراسلے میں ہی کر دی گئی ہے، وہ تو بھلا ہو راحل میاں کا کہ اس سے اصل کا پتہ چلا۔
نظم کا دوسرا مصرع البتہ بالکل الگ نظر آ رہا ہے، باقی نظم تو معری ہے۔ یہ مصرع بھی
جسم واحد کی مانند سب ایک ہیں
کیا جا سکتا ہے
آخری سطر میں 'ہمیں' کا محل ہے
ٹھیک تو ہے لیکن روانی متاثر ہے بس، پختگی( مضبوطی بہتر لفظ ہو گا) کے باعث
آخری مصرعوں میں 'پائیں' غلط ہے، جب مل ہی نہ پائیں گے تو ڈھونڈھ کیسے پائیں گے؟ محض ڈھونڈیں ہونا چاہئے
لپٹ کے درد میں ہر اک خوشی ملی مجھ کو
عجیب راہ پہ لے آئی زندگی مجھ کو
... پہلے مصرع کے بیانیے سے لگتا ہے کہ خوشی اپنی خواہش کے مطابق درد میں لپٹ کر ملی، جو ظاہر ہے کہ مراد نہیں ہو گی
خوشی بھی درد میں لپٹی ہوئی ملی مجھ کو
کیا جا سکتا ہے
ہر ایک شخص کے بہروپ ہیں یہاں سو سو
لگے ہے شکل ہر اک...
شام ڈھلتے ہی تری یاد نے/کو آنا ہوگا
اپنی سوچوں میں تقدس کو سجانا ہوگا
.... دو لخت لگتا ہے
گوہرِ عشق و وفا ڈھونڈ رہا ہوں کب سے
ڈھونڈنے پار تخیل سے بھی جانا ہوگا
... درست
فرحت جاں نہ سہی وحشتِ دوراں ہی سہی
کچھ تو بازار تمنا سے کمانا ہوگا
... درست
تابشِ حُسن تو حوروں سے ہے بڑھ کر تیری
کوئی...
اس کا ٹیگ مجھے نہیں ملا، ابھی جاتے جاتے اس پر نظر پڑی۔ بعد میں تفصیل سے دیکھتا ہوں فی الحال اتنا ہی 'میں نے کرنا یے' اردو نہیں، پنجابی ہے۔ پہلے اور آخری مصرعے میں یہ غلطی دور کر لی جائے