بحر تو میرے خیال میں درست ہے۔ آزاد نظم میں افاعیل کو ادھورا بھی چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس کا رکن فعولن نہیں، اسے مفاعی یعنی آخر کا لن چھوڑ دیا گیا ہے، سوچا جا سکتا ہے
گرامر اور روانی پر غور کرنے کی ضرورت ہے
پھولوں کی قبائیں پھٹنے سے مراد؟
اب آج جمعے کو ہمارے ہاں عید ہے، پاکستان میں تو سعودی عید منا لی گئی!
یہاں لاک ڈاؤن چل رہا ہے، اس لئے بغیر نماز عید کی عید ہے ہماری
۔ بہر حال سب اراکین کو میری طرف سے بھی عید مبارک
عالم یہ ہے تو لگتا ہے کہ سارے کا سارا خاندان سویڈن میں بس گیا ہے، سوئیڈن ہی وطن ہے، وطن ندارد
( ایک مزاحیہ شعر ہے
ماں باپ بہن بھائی سب ان کے ہیں مرے گھر
اب گھر مرا سسرال ہے، سسرال ندارد)